Saturday, June 21, 2014

غزل : وہ مجھ پہ وار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

غزل

وہ مجھ پہ وار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
میں جاں نثار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

حدیں بنائی گئی تھیں فقط اُسی کے لیے
انھیں وہ پار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

کوئی نہیں تھا سہارا مرا سوا تیرے
میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

ملے گا مجھ سے یہ اُس نے یقیں دلایا تھا
میں انتظار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

رقیب تھا وہ مگر دوستوں سے بہتر تھا
میں اس سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

عزیز رفیع فرحت بدایونی

Aziz Rafi Farhat Badayuni Poetry
A Ghazal by Farhat Badayuni

ग़ज़ल

वह मुझपे वार न करता तो और क्या करता
मैं जाँ निसार न करता तो और क्या करता

हदें बनाई गई थीं फ़क़त उसी के लिये
उन्हें वह पार न करता तो और क्या करता

कोई नहीं था सहारा मेरा सिवा तेरे
मैं ऐतेबार न करता तो और क्या करता

मिलेगा मुझसे यह उसने यक़ीं दिलाया था
मैं इंतेज़ार न करता तो और क्या करता

रक़ीब था वह मगर दोस्तों से बेहतर था
मैं उससे प्यार न करता तो और क्या करता

फ़रहत बदायूनी

Thursday, May 22, 2014

تم اپنے آپ کو کتنا بڑا سمجھتے ہو

تم اپنے آپ کو کتنا بڑا سمجھتے ہو
نظر اُٹھا کے کبھی آسمان کو دیکھو
بجا ہے زخمی تمہیں تیر نے کیا لیکن
یہ جس سے چھوٹا ہے تم اُس کمان کو دیکھو

فرحت  بدایونی
__________________

Farhat Badayuni Poetry
A Qata by Aziz Rafi Farhat Badayuni

Tuesday, February 25, 2014

میرے خلوص کا اچھا دیا صلہ تم نے

میرے خلوص کا اچھا دیا صلہ تم نے

مرا وجود ہی جڑ سے مٹا دیا تم نے

مری کمی کو بھی اک روز بھول جاؤگے

جو چاہتے تھے وہ سب کچھ تو پا لیا تم نے

فرحت  بدایونی
_________________

Farhat Badayuni Poetry
A Qata by Aziz Rafi Farhat Badayuni

Thursday, December 26, 2013

کیا کہے گا یہ زمانہ اُسے سو جانے دو

کیا کہے گا یہ زمانہ اُسے سو جانے دو
صبر تھوڑا سا کرو رات تو ہو جانے دو

کوئی امید کِنارے کی نہیں اب ہم کو
موجِ دشوار کو کشتی کی طرف آنے دو

فرحت  بدایونی
_________________

A Qata by Aziz Rafi Farhat Badayuni

Tuesday, November 12, 2013

ہمیں تو جان سے اس پر نثار ہونا تھا

ہمیں تو جان سے اس پر نثار ہونا تھا
یہ حادثہ بھی فقط ایک بار ہونا تھا

قضا سے خود کو بھلا ھم بچائیں گے کب تک
ہمیں بھی ایک دن اس کا شکار ہونا تھا

فرحت  بدایونی
_______________________

Farhat Badayuni Poetry
A Qata by Aziz Rafi Farhat Badayuni

Tuesday, July 9, 2013

اٹھا تھا ذہن سے اور دل سے جاکے ٹکرایا

اٹھا تھا ذہن سے اور دل سے جاکے ٹکرایا
ترا خیال بھی آیا تو کس طرح آیا


سپردِ خاک ہوا تب کہیں سمجھ پایا
یہ وہ جگہ ہے جہاں پر نہیں مرا سایا
_________________

Farhat Badayuni Poetry
A Qata by Aziz Rafi Farhat Badayuni

Wednesday, February 6, 2013

کیا کہہ دیا ہے میں نے جو گھبرا رہے ہیں آپ

کیا کہہ دیا ہے میں نے جو گھبرا رہے ہیں آپ

آئینہ دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں آپ

دیکھا ہے خواب میں کہ ہے منزل بہت قریب

سب بندشوں کو توڑے چلے آ رہے ہیں آپ
_________________

Farhat Badayuni Poetry