Wednesday, February 6, 2013

کیا کہہ دیا ہے میں نے جو گھبرا رہے ہیں آپ

کیا کہہ دیا ہے میں نے جو گھبرا رہے ہیں آپ

آئینہ دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں آپ

دیکھا ہے خواب میں کہ ہے منزل بہت قریب

سب بندشوں کو توڑے چلے آ رہے ہیں آپ
_________________

Farhat Badayuni Poetry

Thursday, November 8, 2012

ہم نوا بھی رقیب لگتا ہے

ہم نوا بھی رقیب لگتا ہے
اب تو سب کچھ عجیب لگتا ہے
اِس لئے اُس کو چاند کہتا ہوں
دور ہوکر قریب لگتا ہے
_______________

Farhat Badayuni Poetry

Saturday, October 13, 2012

گیت : آج کسی سے پیار ہوا ہے

آج کسی سے پیار ہوا ہے
وہ بھی پہلی بار ہوا ہے

دنیا سے جب دل گھبراۓ
تنہا رہنے کو لالچاۓ
ہم کو اسی کی یاد ستائے
جس سے ابھی اِنکار ہوا ہے
تب سے سمجھ لو پیار ہوا ہے
وہ بھی پہلی بار ہوا ہے

خوابوں میں ہر رات وہ آئے
دل کی بات زباں تک لائے
پھر بھی اس سے کہہ نہ پائے
تب یہ سمجھ لو پیار ہوا ہے
وہ بھی پہلی بار ہوا ہے

کر کے اشارہ اُسے بلاؤ
دل کی بات زباں تک لاؤ
اور اسی سے کہہ نہ پاؤ
ایسے کہیں اظہار ہوا ہے
تم کو کسی سے پیار ہوا ہے
وہ بھی پہلی بار ہوا ہے

ملتا ہو جو نظریں جھکائے
بات کرے تو شرما جائے
کبھی ہنسے اور کبھی رُلائے
جس دن سے دیدار ہوا ہے
تب یہ سمجھ لو پیار ہوا ہے
وہ بھی پہلی بار ہوا ہے
__________
 
Farhat Badayuni
A Geet by Farhat Badayuni
 

Tuesday, September 11, 2012

گیت : یار سے اپنے ڈرتے رہیے

یار سے اپنے ڈرتے رہیے
جو بھی کہے وہ کرتے رہیے

یار بِنا گھربار ہے سونا
یہ سارا سنسار ہے سونا
حسن کا یہ بازار ہے سونا
پیار میں آہیں بھرتے رہیے
یار سے اپنے ڈرتے رہیے
جو بھی کہے وہ کرتے رہیے

جس دن سے وہ ملا نہیں ہے
پھول چمن میں کھلا نہیں ہے
ہمیں کوئی پر گلہ نہیں ہے
پیار میں جیتے مرتے رہیے
یار سے اپنے ڈرتے رہیے
جو بھی کہے وہ کرتے رہیے

دنیا بھر سے اسے چھپاؤ
یار کو دل کی بات بتاؤ
دل کا ہر اک داغ دکھاؤ
اُس کے دل میں اُترتے رہیے
یار سے اپنے ڈرتے رہیے
جو بھی کہے وہ کرتے رہیے
____________

A Geet by Farhat Bdayuni

Tuesday, July 10, 2012

گیت : دیکھے تھے کچھ پیار کے سپنے

دیکھے تھے کچھ پیار کے سپنے
دل کے اور دلدار کے سپنے

دیکھا تھا کوئی پیار کرے گا
چھپ چھپ کے دیدار کرے گا
شرما کے اقرار کرے گا
دنیا سے تکرار کرے گا
دیکھے تھے کچھ پیار کے سپنے
دل کے اور دلدار کے سپنے


دیکھا تھا ہریالی ہوگی
گھر ہوگا گھر والی ہوگی
سندر سی اک سالی ہوگی
ہر دن اک دیوالی ہوگی
دیکھے تھے کچھ پیار کے سپنے
دل کے اور دلدار کے سپنے


کب دیکھا تھا روتے ہوں گے
آنسو چہرہ دھوتے ہوں گے
اپنے جدا نہیں ہوتے ہوں گے
جاگتے ھم وہ سوتے ہوں گے
جو دیکھے تھے پیار کے سپنے
وہ سب تھے بے کار کے سپنے


آنکھ کُھلی تو تنہائی تھی
دور بج رہی شہنائی تھی
رخصت کرنے کو آئی تھی
وہ بھی اُس کی پرچھائیں تھی
جو دیکھے تھے پیار کے سپنے
دل کے اور دلدار کے سپنے
وہ سب تھے بے کار کے سپنے
____________
 
Farhat Badayuni Poetry
Dreams by Farhat Badayuni
 

Wednesday, June 20, 2012

گیت : تیری زلفیں کالی کالی

تیری زلفیں کالی کالی
آنکھیں ہیں تیری متوالی
تیرا چہرہ چاند کا ٹکڑا
باتیں تیری بھولی بھالی
تیری زلفیں کالی کالی
آنکھیں ہیں تیری متوالی

لگتا ہے مجھ کو دیوانا
شمع کا جیسے پروانا
جلنا ہے قسمت میں تیری
موت ہے تجھ کو آنے والی
تیری زلفیں کالی کالی
آنکھیں ہیں تیری متوالی

پیار میں جینا پیار میں مرنا
دنیا سے کس بات کا ڈرنا
دل میں اپنے پیار بھرا ہے
مانا اپنی جیب ہے خالی
تیری زلفیں کالی کالی
آنکھیں ہیں تیری متوالی

ساتھ جائیں گے ساتھ مریں گے
مر کے بھی ہم پیار کریں گے
دنیا ہم کو یاد کرے گی
پیار بنے گا اپنا مثالی
تیری زلفیں کالی کالی
آنکھیں ہیں تیری متوالی

آنکھوں میں تصویر تمہاری
خوابوں میں تعبیر تمہاری
ہر دھڑکن میں نام تمہارا
تم جو ملے تو دنیا پالی
تیری زلفیں کالی کالی
آنکھیں ہیں تیری متوالی
____________
 
Zulfen : A Geet by Farhat Badayuni
 

Sunday, June 3, 2012

گیت : اے مری زندگی اے مری زندگی

اے مری زندگی اے مری زندگی
تو کسی اور کی ہو نہ جانا کبھی
اے مری زندگی اے مری زندگی

دھڑکنوں میں مری بس تیرا نام ہے
تو ہی صبح مری تو مری شام ہے
تو ہی آغاز ہے تو ہی انجام ہے
تو ملی تو مجھے مل گئی ہر خوشی
اے مری زندگی اے مری زندگی
تو کسی اور کی ہو نہ جانا کبھی

بِن ترے جسم میرا یہ کس کام کا
جیسے میکش بِنا حال ہو جام کا
جیسے رادھا بِنا نام ہو شیام کا
تو تصوّر میرا تو مری شاعری
اے مری زندگی اے مری زندگی
تو کسی اور کی ہو نہ جانا کبھی

تجھ سے بچھڑے تو پھر ہم کدھر جائیں گے
اس جہاں کے اندھیروں میں کھو جائیں گے
یہ زمانہ ہنسے گا جدھر جائیں گے
میرا جو کچھ ہے سوغات ہے سب تیری
اے مری زندگی اے مری زندگی
تو کسی اور کی ہو نہ جانا کبھی
___________
 
Geet by Farhat Badayuni